رابندر ناتھ ٹیگور

رابندرناتھ ٹیگور بنگالی زبان کے عظیم شاعر، کہانی کار، ناول نگار، ڈراما نویس، موسیقار ، سیاستدان، مفکر اور ماہر تعلیم تھے۔ وہ ایک خاص طرززندگی اختیار کرنے والی شخصیت تھے۔ انہیں رشی منی اور روحانی گرو کی حیثیت حاصل تھی۔ وہ ٧ مئی ١٨٦١ء کو مغربی بنگال کے شہر کلکتہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے سکول یا کالج سے کوئی ڈگری حاصل نہیں کی۔ وسیع جاگیر کا مالک ہونے کی بنا پر انہیں روزی کمانے کے لیے کسی پیشے سے منسلک ہونے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ انہوں نے اپنی زندگی تخلیقی کام کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ بنگالی شعر و ادب اور فنون میں انہوں نے گراں قدر اضافہ کیا۔ ان کی اہم تصانیف میں باغبان، گیتا نجلی، سادھنا اور کہانیوں ، افسانوں اور نظموں کے متعدد مجموعے شامل ہیں۔ لیکن عالمی سطح پر ان کی نظموں کا مجموعہ گیتا نجلی انہیں شہرتِ دوام دلانے کا سبب بنا۔ ٹیگور نے ان نظموں میں عجیب نغمگی ، اسرار اور فلسفہ حیات سمویا ہے۔ ان کی ساری شاعری حساسیت اور حسن و تازگی سے مزین ہے جو بنگالی شاعری میں ایک نئی چیز تھی۔ ان کا اسلوب جدا ور انوکھا ہے۔ ان کی شاعری کے اثرات بنگالی شاعری پر بہت گہرے ہیں، مگر ان کے منفرد اسلوب کو آج تک ناقابل تقلید ہونے کی سند حاصل ہے۔ جہاں تک ان کی کہانی کاری کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں کسی رائے کا اظہار کرنے کی بجائے ان کی خوبصورت اور دل کو چھو پینے والی تخلیق ’’کابلی والا‘‘ کا مطالعہ کر لینا کافی ہے۔ جن کے سینے میں گداز دل ہے ، وہی اس تحریر کی قدر و قیمت جان سکتے ہیں۔ ١٩١٣ء میں رابندرناتھ ٹیگور کو ادب کا نوبل انعام دیا گیا۔ فقط دو برس بعد ١٩١٥ء میں انگریز سرکار نے ان کی ادبی، علمی اور شخصی عظمت کے اعتراف میں انہیں سر کا خطاب دیا۔ ان کی تاریخ وفات ٧ اگست ١٩٤١ ء ہے۔